دین کے نام پر عبادت سمجھ کرانسان کو قتل کرنا دہشتگردی ہے، علامہ سید جواد نقوی

شیعیت نیوز: تحریک بیداری امت مصطفیٰ اور جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے کہا ہے کہ قرآن نے قصاص کو انسانی زندگی قرار دیا ہے۔ اگر حیات انسانی کو خطرے میں ڈالا جائے تو بہت بڑا جرم ہے۔ کسی بھی بہانے سے دوسرے کو مار دینا بدترین جاہلیت اور گناہ ہے۔ جنت حاصل کرنے کے نام پر مسلمان کو قتل کرنیوالے وحشی ہیں۔ دین کے نام پر عبادت سمجھ کر انسان کو قتل کرنا دہشتگردی ہے۔ انسانیت دین کا ستون ہے، انسانیت کیلئے دین ہے، انسانیت کی تکریم کیلئے دین ہے، نہ کہ انسانیت کو نابود کرنے کیلئے۔ قصاص ہر آدمی نہیں کرسکتا بلکہ شرعی حاکم کرسکتا ہے، قصاص کا اجراء حکومتوں کا کام ہے۔ جو بھی زمین میں فساد کرنے کیلئے قتل کرے یا کسی نفس کو بغیر کسی جواز کے قتل کرے یا زمین میں فساد پھیلائے یہ خدا کے نزدیک برابر ہے، ایک بندے کو قتل کرنا برابر تمام بشریت کا قاتل ہے۔

مسجد بیت العتیق جامعہ عروة الوثقیٰ لاہور میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجرم صرف گولی، چھری یا چاقو سے قتل کرنیوالے ہی نہیں، کھانے پینے والی اشیا میں ملاوٹ کرکے مارنے والے بھی قاتل ہی ہیں۔ حیات انسانی کے ماحول کو گندا کرنے، پینے والا پانی گندا کرنیوالے، جعلی دوائیں بنانے والے اور انسانی غذاؤں کو آلودہ کرنیوالے قرآن کی رو سے مجرمین کے زمر ے میں آتے ہیں۔ کیونکہ سرمایہ داری نظام میں سرمائے کی اہمیت ہے، انسان کی اہمیت نہیں۔ فیکٹریوں کا گندا پانی نالیوں میں ڈالنے والے بھی انسانوں کے قاتل ہیں، کیونکہ یہ کیمیکل ملا پانی دریاوں اور فصلوں میں ڈالا جاتا ہے، تو انسانی قتل کا باعث بنتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کئی بار وضاحت کی ہے کہ ہم ایٹم بم اسلئے نہیں بناتے کیونکہ یہ انسانیت کش ہے اور یہی تقویٰ ہے۔ وہ دین نہیں جس میں حیات انسانی کی قدر و قیمت نہیں۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ سورہ مبارکہ بقرہ میں قتل میں قصاص لازم قرار دیا گیا ہے، اسی طرح انسانی اعضاء کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ یہ قصاص اور حدود تقویٰ کا حصہ ہے، اگر اس کی پرواہ نہیں کریں گے اور ترک کریں گے تو ایسے ہی ہے جیسے مسلمان عبادات کے مومن ہیں۔

انہوں نے کہا قصاص، حدود و دیت پر کوئی عمل نہیں کرتا اور کوئی پرواہ بھی نہیں، قرآن نے قصاص کو انسانی زندگی قرار دیا ہے۔ اگر حیات انسانی کو خطرے میں ڈالا جائے تو بہت بڑا جرم ہے۔ سورہ مائدہ میں حیات انسانی کی اہمیت واضح کرتے ہوئے ایک انسانی زندگی خطرے میں ڈالنے کو پوری انسانیت کو خطرے میں ڈالنے کو پوری انسانیت کا جرم قرار دیا جائے گا۔ انہوں نےافسوس کا اظہار کیا کہ ہماری دینداری قرآنی دین سے مطابقت نہیں رکھتی، کیونکہ ہم قرآن سے آگے نکل جاتے ہیں یا پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مومن قاتل نہیں ہوسکتا، مگر قتل خطائی گناہ نہیں، لیکن اس قتل خطا سنگین جرم ہے، جس کی سزا اور جرمانہ دیت ہے، جس کا تعین اس ملک کے اقتصادی پیمانوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مومن وہ ہے جو اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہو، انبیاء کو مانتا ہو اور قیامت کو مانتا ہو اور ملائکہ پر ایمان رکھتا ہو، اس کا قتل جائز نہیں۔ اس کو قتل نہیں کرسکتے کسی بھی بہانے سے۔

دین کے نام پر عبادت سمجھ کرانسان کو قتل کرنا دہشتگردی ہے، علامہ سید جواد نقوی

شیعیت نیوز: تحریک بیداری امت مصطفیٰ اور جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے کہا ہے کہ قرآن نے قصاص کو انسانی زندگی قرار دیا ہے۔ اگر حیات انسانی کو خطرے میں ڈالا جائے تو بہت بڑا جرم ہے۔ کسی بھی بہانے سے دوسرے کو مار دینا بدترین جاہلیت اور گناہ ہے۔ جنت حاصل کرنے کے نام پر مسلمان کو قتل کرنیوالے وحشی ہیں۔ دین کے نام پر عبادت سمجھ کر انسان کو قتل کرنا دہشتگردی ہے۔ انسانیت دین کا ستون ہے، انسانیت کیلئے دین ہے، انسانیت کی تکریم کیلئے دین ہے، نہ کہ انسانیت کو نابود کرنے کیلئے۔ قصاص ہر آدمی نہیں کرسکتا بلکہ شرعی حاکم کرسکتا ہے، قصاص کا اجراء حکومتوں کا کام ہے۔ جو بھی زمین میں فساد کرنے کیلئے قتل کرے یا کسی نفس کو بغیر کسی جواز کے قتل کرے یا زمین میں فساد پھیلائے یہ خدا کے نزدیک برابر ہے، ایک بندے کو قتل کرنا برابر تمام بشریت کا قاتل ہے۔

مسجد بیت العتیق جامعہ عروة الوثقیٰ لاہور میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجرم صرف گولی، چھری یا چاقو سے قتل کرنیوالے ہی نہیں، کھانے پینے والی اشیا میں ملاوٹ کرکے مارنے والے بھی قاتل ہی ہیں۔ حیات انسانی کے ماحول کو گندا کرنے، پینے والا پانی گندا کرنیوالے، جعلی دوائیں بنانے والے اور انسانی غذاؤں کو آلودہ کرنیوالے قرآن کی رو سے مجرمین کے زمر ے میں آتے ہیں۔ کیونکہ سرمایہ داری نظام میں سرمائے کی اہمیت ہے، انسان کی اہمیت نہیں۔ فیکٹریوں کا گندا پانی نالیوں میں ڈالنے والے بھی انسانوں کے قاتل ہیں، کیونکہ یہ کیمیکل ملا پانی دریاوں اور فصلوں میں ڈالا جاتا ہے، تو انسانی قتل کا باعث بنتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کئی بار وضاحت کی ہے کہ ہم ایٹم بم اسلئے نہیں بناتے کیونکہ یہ انسانیت کش ہے اور یہی تقویٰ ہے۔ وہ دین نہیں جس میں حیات انسانی کی قدر و قیمت نہیں۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ سورہ مبارکہ بقرہ میں قتل میں قصاص لازم قرار دیا گیا ہے، اسی طرح انسانی اعضاء کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ یہ قصاص اور حدود تقویٰ کا حصہ ہے، اگر اس کی پرواہ نہیں کریں گے اور ترک کریں گے تو ایسے ہی ہے جیسے مسلمان عبادات کے مومن ہیں۔

انہوں نے کہا قصاص، حدود و دیت پر کوئی عمل نہیں کرتا اور کوئی پرواہ بھی نہیں، قرآن نے قصاص کو انسانی زندگی قرار دیا ہے۔ اگر حیات انسانی کو خطرے میں ڈالا جائے تو بہت بڑا جرم ہے۔ سورہ مائدہ میں حیات انسانی کی اہمیت واضح کرتے ہوئے ایک انسانی زندگی خطرے میں ڈالنے کو پوری انسانیت کو خطرے میں ڈالنے کو پوری انسانیت کا جرم قرار دیا جائے گا۔ انہوں نےافسوس کا اظہار کیا کہ ہماری دینداری قرآنی دین سے مطابقت نہیں رکھتی، کیونکہ ہم قرآن سے آگے نکل جاتے ہیں یا پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مومن قاتل نہیں ہوسکتا، مگر قتل خطائی گناہ نہیں، لیکن اس قتل خطا سنگین جرم ہے، جس کی سزا اور جرمانہ دیت ہے، جس کا تعین اس ملک کے اقتصادی پیمانوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مومن وہ ہے جو اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہو، انبیاء کو مانتا ہو اور قیامت کو مانتا ہو اور ملائکہ پر ایمان رکھتا ہو، اس کا قتل جائز نہیں۔ اس کو قتل نہیں کرسکتے کسی بھی بہانے سے۔

دین کے نام پر عبادت سمجھ کرانسان کو قتل کرنا دہشتگردی ہے، علامہ سید جواد نقوی

شیعیت نیوز: تحریک بیداری امت مصطفیٰ اور جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے کہا ہے کہ قرآن نے قصاص کو انسانی زندگی قرار دیا ہے۔ اگر حیات انسانی کو خطرے میں ڈالا جائے تو بہت بڑا جرم ہے۔ کسی بھی بہانے سے دوسرے کو مار دینا بدترین جاہلیت اور گناہ ہے۔ جنت حاصل کرنے کے نام پر مسلمان کو قتل کرنیوالے وحشی ہیں۔ دین کے نام پر عبادت سمجھ کر انسان کو قتل کرنا دہشتگردی ہے۔ انسانیت دین کا ستون ہے، انسانیت کیلئے دین ہے، انسانیت کی تکریم کیلئے دین ہے، نہ کہ انسانیت کو نابود کرنے کیلئے۔ قصاص ہر آدمی نہیں کرسکتا بلکہ شرعی حاکم کرسکتا ہے، قصاص کا اجراء حکومتوں کا کام ہے۔ جو بھی زمین میں فساد کرنے کیلئے قتل کرے یا کسی نفس کو بغیر کسی جواز کے قتل کرے یا زمین میں فساد پھیلائے یہ خدا کے نزدیک برابر ہے، ایک بندے کو قتل کرنا برابر تمام بشریت کا قاتل ہے۔

مسجد بیت العتیق جامعہ عروة الوثقیٰ لاہور میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجرم صرف گولی، چھری یا چاقو سے قتل کرنیوالے ہی نہیں، کھانے پینے والی اشیا میں ملاوٹ کرکے مارنے والے بھی قاتل ہی ہیں۔ حیات انسانی کے ماحول کو گندا کرنے، پینے والا پانی گندا کرنیوالے، جعلی دوائیں بنانے والے اور انسانی غذاؤں کو آلودہ کرنیوالے قرآن کی رو سے مجرمین کے زمر ے میں آتے ہیں۔ کیونکہ سرمایہ داری نظام میں سرمائے کی اہمیت ہے، انسان کی اہمیت نہیں۔ فیکٹریوں کا گندا پانی نالیوں میں ڈالنے والے بھی انسانوں کے قاتل ہیں، کیونکہ یہ کیمیکل ملا پانی دریاوں اور فصلوں میں ڈالا جاتا ہے، تو انسانی قتل کا باعث بنتا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کئی بار وضاحت کی ہے کہ ہم ایٹم بم اسلئے نہیں بناتے کیونکہ یہ انسانیت کش ہے اور یہی تقویٰ ہے۔ وہ دین نہیں جس میں حیات انسانی کی قدر و قیمت نہیں۔ علامہ جواد نقوی نے کہا کہ سورہ مبارکہ بقرہ میں قتل میں قصاص لازم قرار دیا گیا ہے، اسی طرح انسانی اعضاء کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ یہ قصاص اور حدود تقویٰ کا حصہ ہے، اگر اس کی پرواہ نہیں کریں گے اور ترک کریں گے تو ایسے ہی ہے جیسے مسلمان عبادات کے مومن ہیں۔

انہوں نے کہا قصاص، حدود و دیت پر کوئی عمل نہیں کرتا اور کوئی پرواہ بھی نہیں، قرآن نے قصاص کو انسانی زندگی قرار دیا ہے۔ اگر حیات انسانی کو خطرے میں ڈالا جائے تو بہت بڑا جرم ہے۔ سورہ مائدہ میں حیات انسانی کی اہمیت واضح کرتے ہوئے ایک انسانی زندگی خطرے میں ڈالنے کو پوری انسانیت کو خطرے میں ڈالنے کو پوری انسانیت کا جرم قرار دیا جائے گا۔ انہوں نےافسوس کا اظہار کیا کہ ہماری دینداری قرآنی دین سے مطابقت نہیں رکھتی، کیونکہ ہم قرآن سے آگے نکل جاتے ہیں یا پیچھے رہ جاتے ہیں۔ مومن قاتل نہیں ہوسکتا، مگر قتل خطائی گناہ نہیں، لیکن اس قتل خطا سنگین جرم ہے، جس کی سزا اور جرمانہ دیت ہے، جس کا تعین اس ملک کے اقتصادی پیمانوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مومن وہ ہے جو اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتا ہو، انبیاء کو مانتا ہو اور قیامت کو مانتا ہو اور ملائکہ پر ایمان رکھتا ہو، اس کا قتل جائز نہیں۔ اس کو قتل نہیں کرسکتے کسی بھی بہانے سے۔

انصاف کا دوہرامعیار،نواز شریف علاج کیلئے آزاد، غریب قیدی حوالات میں زندگی کی بازی ہارگیا،عوام کا احتجاج

شیعیت نیوز: ڈسٹرکٹ جیل گلگت میں قید رحمت علی کی موت پر لواحقین اور سینکڑوں افراد نے میت کے ہمراہ دھرنا دیا، لواحقین کا کہنا تھا کہ رحمت علی پچھلے دو سال سے بیمار تھا لیکن جیل حکام نے انہیں طبی سہولیات فراہم نہیں کیں، آخری وقت میں ہسپتال لے کر خانہ پری کرنے کی کوشش کی گئی، رحمت علی کی موت کا ذمہ دار جیل حکام ہیں، مظاہرین کا کہنا تھا کہ بروقت طبی امداد مل جاتی تو رحمت علی کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ دوسری جانب ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے ترجمان الیاس صدیقی نے اسلام ٹائمز کو بتایا کہ رحمت علی پچھلے دو سال سے عارضہ قلب میں مبتلا تھا، ہم نے ذمہ دار حکام سے کئی بار درخواست کی تھی کہ انہیں علاج کی سہولیات دی جائیں لیکن ہماری درخواست کہیں پر بھی نہیں سنی گئی۔ ملک کے بڑے بڑے سزا یافتہ ڈاکوں کیلئے چھ چھ ہفتے کی چھوٹ ملتی ہے لیکن ایک غریب قیدی سہولیات کو ترس جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ جیل میں اس وقت دو اور قیدی گزشتہ ایک سال سے بیمار ہیں۔ ان کی صحت بھی تشویشناک ہے، حکام انہیں بھی طبی سہولیات فراہم نہیں کر رہے۔ یاد رہے کہ رینجرز کیس میں ڈسٹرکٹ جیل میں قید ملزم کی گزشتہ روز ہسپتال میں موت واقع ہوئی تھی۔

انصاف کا دوہرامعیار،نواز شریف علاج کیلئے آزاد، غریب قیدی حوالات میں زندگی کی بازی ہارگیا،عوام کا احتجاج

شیعیت نیوز: ڈسٹرکٹ جیل گلگت میں قید رحمت علی کی موت پر لواحقین اور سینکڑوں افراد نے میت کے ہمراہ دھرنا دیا، لواحقین کا کہنا تھا کہ رحمت علی پچھلے دو سال سے بیمار تھا لیکن جیل حکام نے انہیں طبی سہولیات فراہم نہیں کیں، آخری وقت میں ہسپتال لے کر خانہ پری کرنے کی کوشش کی گئی، رحمت علی کی موت کا ذمہ دار جیل حکام ہیں، مظاہرین کا کہنا تھا کہ بروقت طبی امداد مل جاتی تو رحمت علی کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ دوسری جانب ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے ترجمان الیاس صدیقی نے اسلام ٹائمز کو بتایا کہ رحمت علی پچھلے دو سال سے عارضہ قلب میں مبتلا تھا، ہم نے ذمہ دار حکام سے کئی بار درخواست کی تھی کہ انہیں علاج کی سہولیات دی جائیں لیکن ہماری درخواست کہیں پر بھی نہیں سنی گئی۔ ملک کے بڑے بڑے سزا یافتہ ڈاکوں کیلئے چھ چھ ہفتے کی چھوٹ ملتی ہے لیکن ایک غریب قیدی سہولیات کو ترس جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ جیل میں اس وقت دو اور قیدی گزشتہ ایک سال سے بیمار ہیں۔ ان کی صحت بھی تشویشناک ہے، حکام انہیں بھی طبی سہولیات فراہم نہیں کر رہے۔ یاد رہے کہ رینجرز کیس میں ڈسٹرکٹ جیل میں قید ملزم کی گزشتہ روز ہسپتال میں موت واقع ہوئی تھی۔

انصاف کا دوہرامعیار،نواز شریف علاج کیلئے آزاد، غریب قیدی حوالات میں زندگی کی بازی ہارگیا،عوام کا احتجاج

شیعیت نیوز: ڈسٹرکٹ جیل گلگت میں قید رحمت علی کی موت پر لواحقین اور سینکڑوں افراد نے میت کے ہمراہ دھرنا دیا، لواحقین کا کہنا تھا کہ رحمت علی پچھلے دو سال سے بیمار تھا لیکن جیل حکام نے انہیں طبی سہولیات فراہم نہیں کیں، آخری وقت میں ہسپتال لے کر خانہ پری کرنے کی کوشش کی گئی، رحمت علی کی موت کا ذمہ دار جیل حکام ہیں، مظاہرین کا کہنا تھا کہ بروقت طبی امداد مل جاتی تو رحمت علی کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ دوسری جانب ایم ڈبلیو ایم گلگت بلتستان کے ترجمان الیاس صدیقی نے اسلام ٹائمز کو بتایا کہ رحمت علی پچھلے دو سال سے عارضہ قلب میں مبتلا تھا، ہم نے ذمہ دار حکام سے کئی بار درخواست کی تھی کہ انہیں علاج کی سہولیات دی جائیں لیکن ہماری درخواست کہیں پر بھی نہیں سنی گئی۔ ملک کے بڑے بڑے سزا یافتہ ڈاکوں کیلئے چھ چھ ہفتے کی چھوٹ ملتی ہے لیکن ایک غریب قیدی سہولیات کو ترس جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ جیل میں اس وقت دو اور قیدی گزشتہ ایک سال سے بیمار ہیں۔ ان کی صحت بھی تشویشناک ہے، حکام انہیں بھی طبی سہولیات فراہم نہیں کر رہے۔ یاد رہے کہ رینجرز کیس میں ڈسٹرکٹ جیل میں قید ملزم کی گزشتہ روز ہسپتال میں موت واقع ہوئی تھی۔

وفاقی و صوبائی حکومتیں ملک بھر بالخصوص کراچی میں شیعہ نوجوانوں کے اغوا کا سلسلہ بند کروائیں، علامہ عباس کمیلی

شیعیت نیوز: جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ عباس کمیلی نے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں ملک بھر میں اور بالخصوص کراچی میں شیعہ نوجوانوں کے اغوا کا سلسلہ بند کروائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ عباس کمیلی کا کہنا تھا کہ چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے اور بے گناہ نوجوانوں کو لا پتہ کر کے من گھڑت مقدمات میں ملوث کرنے کی سازش کی جا رہی کے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی شخص پر شک بھی ہو تو بھی قانونی طریقہ کار اپنایا جائے ۔ جبری گمشدگیاں اور لاپتہ کیا جانا کسی طور پر قبول نہیں۔

جعفر یہ الائنس پاکستان کے سربراہ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو متنبہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملت جعفر یہ کے عمائدین کے قتل میں ملوث دہشت گرد سال ہا سال بیت جانے کے باوجود گرفتارنہیں کیے گئے اور اب شہر کراچی میں آئے روز بے گناہ نوجوانوں کا سلسلہ فی النور بند کیا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملت جعفر یہ میں ریاستی اداروں کے جبری عمل سے شدید تشویش پائی جاتی ہے اور ملت جعفر یہ اپنے حقوق کے دفاع کے لئے کسی قسم کے راست اقدام سے گریز نہیں کرے گی۔ انہوں نے حکومت اور اداروں سے مطالبہ کیا کہ بے گناہ شیعہ لاپتہ نوجوانوں کو فی الفور رہا کیا جائے بصورت دیگر احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔ اس موقع پر جعفر یہ الائنس پاکستان کے تمام عہدیداروں نے اجلاس میں جبری گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

وفاقی و صوبائی حکومتیں ملک بھر بالخصوص کراچی میں شیعہ نوجوانوں کے اغوا کا سلسلہ بند کروائیں، علامہ عباس کمیلی

شیعیت نیوز: جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ عباس کمیلی نے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں ملک بھر میں اور بالخصوص کراچی میں شیعہ نوجوانوں کے اغوا کا سلسلہ بند کروائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ عباس کمیلی کا کہنا تھا کہ چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے اور بے گناہ نوجوانوں کو لا پتہ کر کے من گھڑت مقدمات میں ملوث کرنے کی سازش کی جا رہی کے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی شخص پر شک بھی ہو تو بھی قانونی طریقہ کار اپنایا جائے ۔ جبری گمشدگیاں اور لاپتہ کیا جانا کسی طور پر قبول نہیں۔

جعفر یہ الائنس پاکستان کے سربراہ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو متنبہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملت جعفر یہ کے عمائدین کے قتل میں ملوث دہشت گرد سال ہا سال بیت جانے کے باوجود گرفتارنہیں کیے گئے اور اب شہر کراچی میں آئے روز بے گناہ نوجوانوں کا سلسلہ فی النور بند کیا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملت جعفر یہ میں ریاستی اداروں کے جبری عمل سے شدید تشویش پائی جاتی ہے اور ملت جعفر یہ اپنے حقوق کے دفاع کے لئے کسی قسم کے راست اقدام سے گریز نہیں کرے گی۔ انہوں نے حکومت اور اداروں سے مطالبہ کیا کہ بے گناہ شیعہ لاپتہ نوجوانوں کو فی الفور رہا کیا جائے بصورت دیگر احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔ اس موقع پر جعفر یہ الائنس پاکستان کے تمام عہدیداروں نے اجلاس میں جبری گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

وفاقی و صوبائی حکومتیں ملک بھر بالخصوص کراچی میں شیعہ نوجوانوں کے اغوا کا سلسلہ بند کروائیں، علامہ عباس کمیلی

شیعیت نیوز: جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ عباس کمیلی نے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں ملک بھر میں اور بالخصوص کراچی میں شیعہ نوجوانوں کے اغوا کا سلسلہ بند کروائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ عباس کمیلی کا کہنا تھا کہ چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے اور بے گناہ نوجوانوں کو لا پتہ کر کے من گھڑت مقدمات میں ملوث کرنے کی سازش کی جا رہی کے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی شخص پر شک بھی ہو تو بھی قانونی طریقہ کار اپنایا جائے ۔ جبری گمشدگیاں اور لاپتہ کیا جانا کسی طور پر قبول نہیں۔

جعفر یہ الائنس پاکستان کے سربراہ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو متنبہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملت جعفر یہ کے عمائدین کے قتل میں ملوث دہشت گرد سال ہا سال بیت جانے کے باوجود گرفتارنہیں کیے گئے اور اب شہر کراچی میں آئے روز بے گناہ نوجوانوں کا سلسلہ فی النور بند کیا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملت جعفر یہ میں ریاستی اداروں کے جبری عمل سے شدید تشویش پائی جاتی ہے اور ملت جعفر یہ اپنے حقوق کے دفاع کے لئے کسی قسم کے راست اقدام سے گریز نہیں کرے گی۔ انہوں نے حکومت اور اداروں سے مطالبہ کیا کہ بے گناہ شیعہ لاپتہ نوجوانوں کو فی الفور رہا کیا جائے بصورت دیگر احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔ اس موقع پر جعفر یہ الائنس پاکستان کے تمام عہدیداروں نے اجلاس میں جبری گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

میں اداروں کو پیغام دیتا ہوں کہ کراچی میں شیعہ عزاداروں کی اغواء گردی قابل قبول نہیں ہے، علامہ شہنشاہ نقوی

شیعیت نیوز: معروف عالم دین اور خطیب مسجد باب العلم علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے شیعیت نیوزکو جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کہاہے کہ اداروں کو یہ پیغام پہنچا ئیں کہ کیا یہ روش اور طریقہ نا مناسب ہے،کراچی میں شیعہ جوانوں کی مسلسل جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کریں،میں اداروں کو پیغام دیتا ہوں کہ کراچی میں شیعہ عزاداروں کی اغواء گردی قابل قبول نہیں ہےاور یہ انسانی حقوق کیخلاف ہےاداروں سے کہتا ہوں کہ بیلنس پالیسی پر عمل نہ کریںآپ کو تو پتہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کس نے شروع کی اوریہ دہشت گرد کہاں پروان چڑھتے ہیں۔