شامی تکفیری دہشتگردو کے لیے پاکستانی دیوبندی لڑکیوں کا 2016 کا پہلا تحفہ

‎ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮬﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﮩﺎﺩ ﺍﻟﻨﮑﺎﺡ (ﺯﻧﺎ ) ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﺎﻡ ﺭﻭﺍﻧﮕﯽ

ﻻﮬﻮﺭ ﮐﯿﻨﭧ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻋﻤﺎﺭﮦ، ﻭﺣﺪﺕ ﮐﺎﻟﻮﻧﯽ ﮐﯽ ﻓﺮﺣﺎﻧﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ، ﺟﻮﮬﺮ ﭨﺎﺅﻥ ﮐﯽ ﺑﺸﺮﯼٰ ﺁﻧﭩﯽ ﻋﺮﻑ ﺣﻠﯿﻤﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﮬﻨﺠﺮﻭﺍﻝ ﮐﯽ ﺣﺴﯿﻨﮧ ﺣﻔﻀﮧ، ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﺎﻡ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮬﻮﮔﺌﯿﮟ

ﻭﺍﺿﺢ ﺭﮬﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﺣﺴﯿﻨﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﺷﻮﮬﺮ ﺍﻧﮑﯽ ﺭﻭﺍﻧﮕﯽ ﭘﺮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮬﯿﮟ

ﻋﻮﺍﻡ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺷﻮﮬﺮ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﻣﺴﻠﮏ ﮬﮯ؟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺧﻼﻓﺖ ﮬﮯ؟ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﯽ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮬﮯ؟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﺎ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﮬﮯ؟ ﺟﻮ ﺷﻮﮬﺮ ﮐﮯ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﻮﮰ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻨﺴﯽ ﺟﮩﺎﺩ ( ﺯﻧﺎ ) ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﮮ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ؟

اسرائیل کو اپنی جارحیت کا خمیازہ ضرور بھگتنا پڑے گا

حزب اللہ لبنان کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ شام میں صیہونی حکومت کے ہاتھوں حزب اللہ اور تحریک مزاحمت کے اراکین کے قتل کا دنداں شکن جواب ضرور دیا جائے گا۔

حزب اللہ لبنان کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے تہران سے شائع ہونے والے اخبار الوفاق سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صیہونی حکومت، حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی طاقت و توانائی سے خوف زدہ ہے اس لئے وہ حزب اللہ کے عہدیداروں اور تحریک مزاحمت کے اراکین کے قتل کی سازشیں کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ غاصب صیہونی حکومت، اب لبنان و حزب اللہ کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرنے کی جرات بھی نہیں کرے گی۔

شیخ نعیم قاسم نے عراق و شام میں داعش اور النصرہ جیسے دہشت گرد گروہوں کی صورت حال کے بارے میں کہا کہ دہشت گرد گروہوں کو ان ملکوں کے عوام نے کاری ضرب لگائی ہے اور ان گروہوں کی ناکامی کے بارے میں کسی طرح کا کوئی شک نہیں کیا جاسکتا۔

واضح رہے کہ صیہونی حکومت کے ہاتھوں سمیر قنطار کی شہادت پر حزب اللہ کی جانب سے انتقام لینے کے اعلان کے بعد سے اس غاصب حکومت پر شدید خوف طاری ہے جس کے نتیجے میں صیہونی حکام کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں۔

پاک فوج نے سپاہ صحابہ کو دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرلیا

شیعیت نیوز: ملکی تاریخ میں پہلی بار ملک دشمن کالعدم دہشتگرد جماعت سپا ہ صحابہ کو پاک فوج نے دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے انکے دہشتگردوں کے ڈیٹھ وارنٹ جار ی کردیئے ہیں، جو قومی اداروں ملک کو دہشتگردوں سے پاک کرنے میں عین دلچسپی کا ثبوت ہے۔

پاک فوج کے ترجمان آئی ایس پئ آر کی پریس ریلز کے مطابق آرمی چیف جنر ل راحیل شریف نے ملک دشمن کالعدم سپاہ صحابہ کے پانچ  دہشتگردوں کو سیکڑوں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے جرم میں دیٹھ ورانٹ کی توثق کردی ہے۔

یہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہو اہے کہ قومی اداروں نے سپاہ صحابہ کو دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اسکے دہشتگردوں کو پھانسی کی سز ا سنائی ہے، تاہم ابھی بھی اسکی اصل پہچان اہلسنت و جماعت کو چھپایا گیا ہے۔

سپاہ صحابہ گذشتہ کئی سالوں سے اہلسنت ولجماعت کے نام سے سرگرم ہے ، جبکہ حکومت کی جانب سے اس کالعدم جماعت کو اپنی سرگرمیاں کرنے کی مکمل اجازت بھی دی گئی ہے۔

وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ اب قومی ادارے اس ملک دشمن تنظیم جو فرقہ وارانہ فسادات میں ماہرات رکھتی ہے اور دہشتگردی کے کئی سنگین واقعات میں ملوث پائی گئی  ہے، اس ساتھ ساتھ عالمی دہشتگرد تنظیموں داعش و القائد کے ساتھ اسکے مراسم بھی منظر عام پر آچکے ہیں ، ایسے وقت میں جب ملک میں داعش جیسی دہشتگرد تنظیم کا خطرہ پاکستان پر منڈلارہا ہے،ایسے وقت میں کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ کی سرگرمیوں پر فوری پابندی لگائی ہےْ۔

PR_ISPR.jpg

شامی تکفیری دہشتگردو کے لیے پاکستانی دیوبندی لڑکیوں کا 2016 کا پہلا تحفہ

‎ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮬﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﮩﺎﺩ ﺍﻟﻨﮑﺎﺡ (ﺯﻧﺎ ) ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﺎﻡ ﺭﻭﺍﻧﮕﯽ

ﻻﮬﻮﺭ ﮐﯿﻨﭧ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻋﻤﺎﺭﮦ، ﻭﺣﺪﺕ ﮐﺎﻟﻮﻧﯽ ﮐﯽ ﻓﺮﺣﺎﻧﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ، ﺟﻮﮬﺮ ﭨﺎﺅﻥ ﮐﯽ ﺑﺸﺮﯼٰ ﺁﻧﭩﯽ ﻋﺮﻑ ﺣﻠﯿﻤﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﮬﻨﺠﺮﻭﺍﻝ ﮐﯽ ﺣﺴﯿﻨﮧ ﺣﻔﻀﮧ، ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺷﺎﻡ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮬﻮﮔﺌﯿﮟ

ﻭﺍﺿﺢ ﺭﮬﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﺣﺴﯿﻨﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﺷﻮﮬﺮ ﺍﻧﮑﯽ ﺭﻭﺍﻧﮕﯽ ﭘﺮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮬﯿﮟ

ﻋﻮﺍﻡ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺷﻮﮬﺮ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﻣﺴﻠﮏ ﮬﮯ؟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺧﻼﻓﺖ ﮬﮯ؟ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﯽ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﮬﮯ؟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﺎ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﮬﮯ؟ ﺟﻮ ﺷﻮﮬﺮ ﮐﮯ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﻮﮰ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻨﺴﯽ ﺟﮩﺎﺩ ( ﺯﻧﺎ ) ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﮮ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ؟

جماعت المنافقین اور دہشتگرد گروہ اہل سنت والجماعت کے سرغنوں کی مسلسل ملاقات جاری

جماعت المنافقین اور تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ اہل سنت والجماعت (سابقہ کالعدم انجمن سپاہ صحابہ) کے سرغنوں کی یہ مسلسل ملاقاتیں ہمارے پچھلے تجزیوں کو درست ثابت کرتی ہیں کہ اس ملک میں دہشتگردی کی نرسری یہی نام نہاد جماعت اسلامی ہے جو 80 کی دہائی سے اس ملک میں تکفیری دہشتگردی کے ناسور کی پرورش اور پھیلاؤ کے لیئے کوشاں ہے۔

اس وقت یہ جماعت المنافقین اسی کالعدم تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ کے سہولت کار کے طور پر اس تکفیری فکر کے پھیلاؤ اور فروغ کے لیئے براہ راست کام کر رہی ہے جب کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بشمول پولیس، فوج اور رینجرز خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کیا نیشنل ایکشن پلان کالعدم دہشتگرد گروہوں کے سہولت کاروں کے خلاف ایکشن لینے کی بات نہیں کرتا ؟ کیا انجمن سپاہ صحابہ (ASS) ایک کالعدم دہشتگرد گروہ نہیں ہے ؟ کیا لدھیانوی اسی کالعدم دہشتگرد گروہ کا سرغنہ نہیں ہے ؟

پھر ان ملاقاتوں کا کیا مقصد ہے ؟ جماعت اسلامی کے یہ منافقین جو اسلام کی آڑ میں فرقہ وارانہ دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی اور ترجمانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں ان ملاقاتوں کے ذریعہ اسلام کے کس برانڈ کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں۔ منصوبہ واضح ہے۔ شام اور عراق کی طرح ترکی اور سعودی عرب کی سرپرستی میں پاکستان میں بھی معصوم انسانوں کے گلے کاٹنے والی دہشتگردی کو اسلام کا نام لے کر مسلط کر دیا جائے۔

سراج دیوبندی سے پیشتر منور حسن دیوبندی اسی کام کے لیئے سرزمین ہموار کرتے رہے ہیں، اسامہ بن لادن اور حکیم اللہ محسود جیسے بدنام زمانہ تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کو اسی مقصد کے تحت یہ جماعت المنافقین شہید قرار دیتی رہی ہے۔ صفورہ سانحہ سے لے کر ملک میں دہشتگردی کے تمام واقعات کے پیچھے یہی تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ اور اس کی سرپرست جماعت المنافقین ہی ملوث رہی ہے۔ اگر اس نام نہاد جماعت اسلامی کی ان سرگرمیوں کو مانیٹر نہیں کیا گیا اور کسی خوش فہمی میں مبتلا رہا گیا تو بعید نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی سرپرائز کا سامنا کرنا پڑے۔

مجمع تقریب کی اہم کانفرنس میں پاکستانی قائدین کی عدم شرکت، ذمہ دار کون؟

شیعیت نیوز : گذشته منگل کو بعد از مغربین مجمع تقریب بین المذاهب کی 29 سالانه انترنیشنل(مشرق وسطی ) وحدت کانفرنس تهران مین اختتام بذیر هوئی. شرکت کنندگان کو آخری دن رهبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت الله العظمی سید علی خامنه ای کی زیارت کا شرف هوا  ،اور رهبر عظیم الشأن نی تاریخی امید افزا خطاب فرمایا.

تاہم اس اجلا س میں افسوس ناک مقام یہ تھا کہ پاکستان کی کسی بھی اہم شخصیت نے اس اجلا س میں شرکت کی نہیں ، اس کا ذمہ دار کون ہے؟  اس کے ذمہ دار اس اہم ادارے کے پاکستان میں نمائندے ہیں جنکی عدم دلچسپی اور نااہلی کے سبب پاکستانی شیعہ و سنی قائدین اس اہم اجلاس میں شرکت نیہیں کرسکے ۔

 انتیس سال گزرنے کے باوجود همسایه ملک پاکستان کی اکثریتی مسلم ابادی بریلوی اهل سنت کی نمایندگی بدستور غائب رهی. وحدت  کی  عملی کردار ادا کرنی والی سنی لیڈر  شب  تحریک منهاج القرآن ،پاکستان عوامی تحریک، سنی اتحاد کونسل ،سنی تحریک ، جمعیت علماء پاکستان نورانی و نیازی کی مرکزی قائدین کی نمایندگی اور شركت هی نهین تهی.

 دوسری جانب شیعه مرکزی شخصیات علامه سید ساجد علی نقوی ، علامه راجه ناصر عباس، علامه شیخ محسن نجفي ، علامه سيد حامد على موسوي ، علامه سيد جواد نقوی سميت دیگر اكثر قایدین بهي شریک نهیں  تهے.

 پاکستانی شرکت کنندگان کی اکثریت کا تعلق جماعت اسلامی سے تها. جو اتحاد و وحدت کے عملی کردار میں کہیں نظر نہیں آتی بلکہ مختلف مواقع پر شیعہ سنی اتحاد کی دشمن کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کرتی نظرآئی ہے۔

اس تمام تر صورتحال کےذمہ دار پاکستان میں موجود مع تقریب بین المذاهب  کے مقامی ذمہ دار ہیں جو اس اہم ادارے کو صرف جماعت اسلامی اور مخصوص لوگ تک محدود کرکے اتحاد و وحدت کے اہم پیغام کو پھیلنے سے روکنے کی کوشیش کررہے ہیں۔

روان سال ہونے والی اس بین الاقوامی اتحاد مجمع تقریب بین المذاهب  کی کانفرنس  میں پاکستان کی اہم شیعہ و سنی قیادتوں کی جگہ چند لوکل رہنماوں کی شرکت اس بات کی جانب اشارہ کررہی ہے کہ مجمع جہانی بین المذاھب کے پاکستان میں سربراہ عالمی سطح پر رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے اتحاد و وحد ت  کے لئے کی جانے والی کوشیشیوں کو ناکام بنانا ہے، جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں شیعہ و سنی نے امام خمینی ؒ کے فرمان پر ہفتہ وحدت کو بھرپور انداز میں مناکر وحدت و یکجہتی کا عملی ثبوت دیا۔

پاک فوج نے سپاہ صحابہ کو دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرلیا

شیعیت نیوز: ملکی تاریخ میں پہلی بار ملک دشمن کالعدم دہشتگرد جماعت سپا ہ صحابہ کو پاک فوج نے دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے انکے دہشتگردوں کے ڈیٹھ وارنٹ جار ی کردیئے ہیں، جو قومی اداروں ملک کو دہشتگردوں سے پاک کرنے میں عین دلچسپی کا ثبوت ہے۔

پاک فوج کے ترجمان آئی ایس پئ آر کی پریس ریلز کے مطابق آرمی چیف جنر ل راحیل شریف نے ملک دشمن کالعدم سپاہ صحابہ کے پانچ  دہشتگردوں کو سیکڑوں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے جرم میں دیٹھ ورانٹ کی توثق کردی ہے۔

یہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہو اہے کہ قومی اداروں نے سپاہ صحابہ کو دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اسکے دہشتگردوں کو پھانسی کی سز ا سنائی ہے، تاہم ابھی بھی اسکی اصل پہچان اہلسنت و جماعت کو چھپایا گیا ہے۔

سپاہ صحابہ گذشتہ کئی سالوں سے اہلسنت ولجماعت کے نام سے سرگرم ہے ، جبکہ حکومت کی جانب سے اس کالعدم جماعت کو اپنی سرگرمیاں کرنے کی مکمل اجازت بھی دی گئی ہے۔

وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ اب قومی ادارے اس ملک دشمن تنظیم جو فرقہ وارانہ فسادات میں ماہرات رکھتی ہے اور دہشتگردی کے کئی سنگین واقعات میں ملوث پائی گئی  ہے، اس ساتھ ساتھ عالمی دہشتگرد تنظیموں داعش و القائد کے ساتھ اسکے مراسم بھی منظر عام پر آچکے ہیں ، ایسے وقت میں جب ملک میں داعش جیسی دہشتگرد تنظیم کا خطرہ پاکستان پر منڈلارہا ہے،ایسے وقت میں کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ کی سرگرمیوں پر فوری پابندی لگائی ہےْ۔

PR_ISPR.jpg

جماعت المنافقین اور دہشتگرد گروہ اہل سنت والجماعت کے سرغنوں کی مسلسل ملاقات جاری

جماعت المنافقین اور تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ اہل سنت والجماعت (سابقہ کالعدم انجمن سپاہ صحابہ) کے سرغنوں کی یہ مسلسل ملاقاتیں ہمارے پچھلے تجزیوں کو درست ثابت کرتی ہیں کہ اس ملک میں دہشتگردی کی نرسری یہی نام نہاد جماعت اسلامی ہے جو 80 کی دہائی سے اس ملک میں تکفیری دہشتگردی کے ناسور کی پرورش اور پھیلاؤ کے لیئے کوشاں ہے۔

اس وقت یہ جماعت المنافقین اسی کالعدم تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ کے سہولت کار کے طور پر اس تکفیری فکر کے پھیلاؤ اور فروغ کے لیئے براہ راست کام کر رہی ہے جب کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بشمول پولیس، فوج اور رینجرز خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کیا نیشنل ایکشن پلان کالعدم دہشتگرد گروہوں کے سہولت کاروں کے خلاف ایکشن لینے کی بات نہیں کرتا ؟ کیا انجمن سپاہ صحابہ (ASS) ایک کالعدم دہشتگرد گروہ نہیں ہے ؟ کیا لدھیانوی اسی کالعدم دہشتگرد گروہ کا سرغنہ نہیں ہے ؟

پھر ان ملاقاتوں کا کیا مقصد ہے ؟ جماعت اسلامی کے یہ منافقین جو اسلام کی آڑ میں فرقہ وارانہ دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی اور ترجمانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں ان ملاقاتوں کے ذریعہ اسلام کے کس برانڈ کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں۔ منصوبہ واضح ہے۔ شام اور عراق کی طرح ترکی اور سعودی عرب کی سرپرستی میں پاکستان میں بھی معصوم انسانوں کے گلے کاٹنے والی دہشتگردی کو اسلام کا نام لے کر مسلط کر دیا جائے۔

سراج دیوبندی سے پیشتر منور حسن دیوبندی اسی کام کے لیئے سرزمین ہموار کرتے رہے ہیں، اسامہ بن لادن اور حکیم اللہ محسود جیسے بدنام زمانہ تکفیری دیوبندی دہشتگردوں کو اسی مقصد کے تحت یہ جماعت المنافقین شہید قرار دیتی رہی ہے۔ صفورہ سانحہ سے لے کر ملک میں دہشتگردی کے تمام واقعات کے پیچھے یہی تکفیری دیوبندی دہشتگرد گروہ اور اس کی سرپرست جماعت المنافقین ہی ملوث رہی ہے۔ اگر اس نام نہاد جماعت اسلامی کی ان سرگرمیوں کو مانیٹر نہیں کیا گیا اور کسی خوش فہمی میں مبتلا رہا گیا تو بعید نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی سرپرائز کا سامنا کرنا پڑے۔

پاکستان میں وہابی دہشت گردوں کے 200 مدارس کے اکاؤنٹس خالی

 پاکستان کے صوبہ پنجاب میں وہابی دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں مشتبہ قرار دیئے جانے والے 200 وہابی مدارس کے بینک اکاؤنٹس سے کوئی ایک بھی اہم معاملہ اور ٹرانزیکشن سامنے نہیں آسکی ہے.اس بات نے فورسز مجبور کردیا ہے کہ وہ ان مدارس کی جانب سے رقم کی منتقلی کے لیے استعمال ہونے والے کسی دوسرے چینل  کو ٹریس کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں۔

وہابی مشتبہ مدارس کی مانیٹرنگ کرنے والے ایک عہدیدار نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے ہے کہ مدارس کے اکاؤنٹس میں صرف چند ہزار روپے ہی موجود ہیں اور یہ بات تشویش میں اضافہ کررہی ہے کہ یہ مدارس رقم کی منتقلی کے لیے کوئی دوسرا طریقہ کار اختیار کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مدارس اپنے نام سے یا کسی دوسرے فرد کے نام سے حوالہ اور ہنڈی کا استعمال یا پھر براہ راست کیش جمع کیا کرتے تھے۔

عہدیدار نے کہا کہ ’جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم(جے آئی ٹی) نے مشتبہوہابی  مدارس کے بینک ٹرانزیکشن کی جانچ پڑتال کا کام مکمل کرلیا ہے اور ان مدارس کے معاملات چلانے کے لیے رقم کی فراہمی کے طریقوں کے حوالے سے اب وہ ان مدارس کے منتظمین کے بیانات ریکارڈ کرے گي۔

جے آئی ٹی میں محکمہ انسداد دہشت گردی، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، پنجاب پولیس کی اسپیشل برانچ، قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی، پنجاب ہوم ڈپارٹمنٹ اور متعدد دیگر ایجنسیز کے عہدیدارں نے مشترکہ طور پر مشتبہ مدارس کی ایک فہرست مرتب کی تھی، ان مدارس پر الزام ہے کہ انھوں نے دہشت گردی کے لیے مالی معاونت یا فنڈنگ غیر قانونی طریقے سے حاصل کی۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ تفتیش کاروں نے ان تمام (مشتبہ مدارس) کی فہرست تیار کی ہے جن کے طلبہ دہشت گردی یا دیگر مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جن مدارس نے کوئی اہم بینک ٹرانسیکشن نہیں کی ہے وہ فنڈز کو خفیہ رکھنے اور رقم کی منتقلی کیلئے غیر قانونی طریقے استعمال کررہے تھے۔

خیال رہے کہ پنجاب کے ان 200 مشتبہ مدارس میں نصف مدارس جنوبی پنجاب کے شہروں ڈیرہ غازی خان، مظفر آباد، میاں والی، خوشاب، لیہ، راجن پور، ملتان، لودھراں، بہاولپور، بھاولنگر، وہاڑی، بھکر اور جھنگ میں قائم ہیں جبکہ دیگر 100 مدارس صوبے کے دیگر حصوں میں موجود ہیں۔

دوسری جانب حکومت نے حال ہی میں ’دہشت گردوں مالی معاونت کرنے والوں اور سہولت کاروں‘ کو پکڑنے کے لیے قومی دہشت گرد فنانسنگ تحقیقاتی سیل مرتب کیا ہے۔

مزکورہ سیل کے تحت اسٹیٹ بینک، ایف آئی اے، فیڈرل بورڈ آف ریوینو اور حساس ادارے مشترکہ طور پر کام کررہے ہیں تاکہ دہشت گردوں کے لیے قومی اور بین الاقوامی بینکوں کے ذریعے ہونے والی مالی ٹرانسیکشن کو ٹریک کیا جاسکے۔واضح رہے کہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول حملے کے بعد نینشل ایکشن پلان کے آغاز سے اب تک اسٹیٹ بینک نے کالعدم تنظیموں کے 126 اکاؤنٹس کو منجمند کیا ہے جن میں ارب روپے کی رقم موجود تھی، جبکہ حوالہ یا ہنڈی کے ذریعے انھیں 25 کروڑ روپے فراہم کئے گئے تھے۔

مجمع تقریب کی اہم کانفرنس میں پاکستانی قائدین کی عدم شرکت، ذمہ دار کون؟

شیعیت نیوز : گذشته منگل کو بعد از مغربین مجمع تقریب بین المذاهب کی 29 سالانه انترنیشنل(مشرق وسطی ) وحدت کانفرنس تهران مین اختتام بذیر هوئی. شرکت کنندگان کو آخری دن رهبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت الله العظمی سید علی خامنه ای کی زیارت کا شرف هوا  ،اور رهبر عظیم الشأن نی تاریخی امید افزا خطاب فرمایا.

تاہم اس اجلا س میں افسوس ناک مقام یہ تھا کہ پاکستان کی کسی بھی اہم شخصیت نے اس اجلا س میں شرکت کی نہیں ، اس کا ذمہ دار کون ہے؟  اس کے ذمہ دار اس اہم ادارے کے پاکستان میں نمائندے ہیں جنکی عدم دلچسپی اور نااہلی کے سبب پاکستانی شیعہ و سنی قائدین اس اہم اجلاس میں شرکت نیہیں کرسکے ۔

 انتیس سال گزرنے کے باوجود همسایه ملک پاکستان کی اکثریتی مسلم ابادی بریلوی اهل سنت کی نمایندگی بدستور غائب رهی. وحدت  کی  عملی کردار ادا کرنی والی سنی لیڈر  شب  تحریک منهاج القرآن ،پاکستان عوامی تحریک، سنی اتحاد کونسل ،سنی تحریک ، جمعیت علماء پاکستان نورانی و نیازی کی مرکزی قائدین کی نمایندگی اور شركت هی نهین تهی.

 دوسری جانب شیعه مرکزی شخصیات علامه سید ساجد علی نقوی ، علامه راجه ناصر عباس، علامه شیخ محسن نجفي ، علامه سيد حامد على موسوي ، علامه سيد جواد نقوی سميت دیگر اكثر قایدین بهي شریک نهیں  تهے.

 پاکستانی شرکت کنندگان کی اکثریت کا تعلق جماعت اسلامی سے تها. جو اتحاد و وحدت کے عملی کردار میں کہیں نظر نہیں آتی بلکہ مختلف مواقع پر شیعہ سنی اتحاد کی دشمن کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کرتی نظرآئی ہے۔

اس تمام تر صورتحال کےذمہ دار پاکستان میں موجود مع تقریب بین المذاهب  کے مقامی ذمہ دار ہیں جو اس اہم ادارے کو صرف جماعت اسلامی اور مخصوص لوگ تک محدود کرکے اتحاد و وحدت کے اہم پیغام کو پھیلنے سے روکنے کی کوشیش کررہے ہیں۔

روان سال ہونے والی اس بین الاقوامی اتحاد مجمع تقریب بین المذاهب  کی کانفرنس  میں پاکستان کی اہم شیعہ و سنی قیادتوں کی جگہ چند لوکل رہنماوں کی شرکت اس بات کی جانب اشارہ کررہی ہے کہ مجمع جہانی بین المذاھب کے پاکستان میں سربراہ عالمی سطح پر رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے اتحاد و وحد ت  کے لئے کی جانے والی کوشیشیوں کو ناکام بنانا ہے، جبکہ اس کے برعکس پاکستان میں شیعہ و سنی نے امام خمینی ؒ کے فرمان پر ہفتہ وحدت کو بھرپور انداز میں مناکر وحدت و یکجہتی کا عملی ثبوت دیا۔